مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی ترقی اب صرف دیکھنے، سننے اور بولنے تک محدود نہیں رہی۔ گزشتہ چند برسوں میں اے آئی ماڈلز نے زبان سمجھنے، تصاویر بنانے اور پیچیدہ فیصلے کرنے میں حیران کن ترقی کی ہے، لیکن ایک ایسی حس تھی جو اب تک روبوٹس میں انسانوں جیسی نہیں بنائی جا سکی تھی، اور وہ ہے چھونے کا احساس (Sense of Touch)۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر روبوٹس کسی چیز کو دیکھ تو سکتے ہیں، لیکن یہ سمجھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے کسی چیز کو کتنی طاقت سے پکڑا ہے، وہ نرم ہے یا سخت، یا کہیں وہ کسی نازک چیز کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے۔
اب برطانیہ کی Queen Mary University of London کے انجینئرز نے ایک ایسی نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو اس مسئلے کو حل کرنے کی جانب ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
محققین نے ایک خاص قسم کا لچکدار (Stretchable) میٹیریل تیار کیا ہے جو دباؤ پڑنے پر اپنا رنگ تبدیل کر دیتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے لیے نہ پیچیدہ الیکٹرانک سینسرز درکار ہیں، نہ باریک تاروں کا جال، اور نہ ہی بھاری کمپیوٹنگ سسٹمز۔ صرف ایک عام USB کیمرہ اس میٹیریل کی بدلتی ہوئی رنگین ساخت کو دیکھ کر فوراً اندازہ لگا لیتا ہے کہ کس جگہ کتنا دباؤ پڑا ہے۔
سادہ الفاظ میں اگر کسی روبوٹ کا ہاتھ اس میٹیریل سے ڈھکا ہو اور وہ کسی چیز کو پکڑے، تو دباؤ کے مطابق مختلف رنگ نمودار ہوں گے۔ کیمرہ ان رنگوں کو پڑھ کر روبوٹ کو بتا دے گا کہ اس نے چیز کو کتنی مضبوطی سے پکڑا ہے، کہاں زیادہ دباؤ ہے اور کہاں کم۔ یوں روبوٹ کو پہلی مرتبہ تقریباً ویسی ہی “چھونے کی حس” مل سکتی ہے جیسی انسان اپنی انگلیوں سے محسوس کرتے ہیں۔
اس ایجاد کی ایک اور بڑی خصوصیت اس کی غیر معمولی حساسیت ہے۔ محققین کے مطابق یہ سینسر تقریباً 100 مائیکرو میٹر کی ریزولوشن رکھتا ہے، یعنی اتنا باریک فرق بھی محسوس کر سکتا ہے کہ انسانی انگلیوں کے نشانات (Fingerprints) کی باریک لکیریں بھی واضح طور پر دکھائی دے سکتی ہیں۔ یہ صلاحیت موجودہ کئی روبوٹک ٹچ سینسرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر سمجھی جا رہی ہے۔
اس نئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال بھی انتہائی دلچسپ ہیں۔ مستقبل میں فیکٹریوں میں کام کرنے والے روبوٹ نہایت نازک الیکٹرانک پرزے زیادہ محفوظ انداز میں پکڑ سکیں گے۔ مصنوعی ہاتھ (Prosthetic Limbs) استعمال کرنے والے افراد کو بہتر لمس کا احساس مل سکتا ہے، جبکہ روبوٹک سرجری میں ایسے آلات تیار کیے جا سکتے ہیں جو صرف دیکھنے کے بجائے انسانی بافتوں (Tissues) کے درمیان معمولی فرق بھی محسوس کر سکیں، جس سے سرجری مزید محفوظ اور زیادہ درست ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایک اور اہم حقیقت بھی سامنے لاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں زیادہ تر ذہین سافٹ ویئر بنانے پر توجہ دے رہی تھیں، لیکن اب توجہ تیزی سے Embodied AI کی طرف منتقل ہو رہی ہے، یعنی ایسے روبوٹس جو صرف سوچنے والے کمپیوٹر نہ ہوں بلکہ اپنے اردگرد کی دنیا کو انسانوں کی طرح دیکھ سکیں، سن سکیں اور محسوس بھی کر سکیں۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں ایسے روبوٹس سامنے آ سکتے ہیں جو نہ صرف ہماری بات سمجھیں بلکہ کسی چیز کو اسی احتیاط سے پکڑ سکیں جیسے ایک انسان پکڑتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا اگلا بڑا مرحلہ صرف “ذہانت” نہیں بلکہ احساس ہے، اور یہ نئی ایجاد اسی مستقبل کی ایک اہم جھلک پیش کرتی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے