مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر مبنی ایک حالیہ دستاویزی پروگرام نے ایک ایسی دنیا کی جھلک دکھائی ہے جو بیک وقت حیران کن بھی ہے اور قدرے خوفناک بھی۔ اس پروگرام میں فنکار Grayson Perry نے ٹیکنالوجی کی دنیا کے اہم افراد سے ملاقات کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ اے آئی انسانوں کی زندگی کو کس حد تک بدلنے جا رہی ہے۔
اس سلسلے میں Mustafa Suleyman نے اے آئی کے روشن پہلو بیان کیے، جیسے صحت کی بہتر تشخیص، تعلیم میں انقلاب، اور علم تک عام رسائی۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ ان ملازمتوں کا کیا ہوگا جو اے آئی ختم کر دے گی، تو جواب کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں تھا۔ ان کے مطابق لوگ خود کو نئے ہنر سکھا لیں گے، یعنی “فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا” والا کلاسک جواب۔
دلچسپ اور قدرے حیران کن بات یہ بھی سامنے آئی کہ مستقبل میں لوگ ایسے اے آئی سسٹمز بنانا چاہیں گے جو نئے مذاہب کی بنیاد رکھیں۔ جی ہاں، اب صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ “ڈیجیٹل مذہب” بھی ممکن ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا لوگ واقعی ایک اے آئی کو اپنا روحانی رہنما مان لیں گے؟ اور اگر ہاں، تو پھر اپڈیٹس کے ساتھ عقائد بھی بدلیں گے؟
پروگرام میں ایک اور پہلو بھی دکھایا گیا جہاں ایک اسٹارٹ اپ دماغی سگنلز کو پڑھنے والی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔ مقصد تو اچھا ہے، جیسے بیماریوں میں مدد، مگر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر یہی ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو؟ کیا مستقبل میں “آپ کیا سوچ رہے ہیں” صرف ایک سوال نہیں بلکہ ایک رپورٹ بن جائے گا؟
اور اگر یہ سب کافی نہیں تھا تو ایک اور حقیقت بھی سامنے آئی: کچھ لوگ اے آئی سے “شادی” بھی کر رہے ہیں۔ ایک خاتون نے اپنے فون میں موجود اے آئی ساتھی کو اپنا شوہر قرار دے دیا، جبکہ اس کا حقیقی ساتھی بھی اس صورتحال سے مطمئن ہے۔ یعنی اب رشتوں میں بھی “کلاؤڈ بیسڈ آپشنز” آ چکے ہیں۔
یہ تمام مثالیں ایک ہی سوال کی طرف اشارہ کرتی ہیں: کیا ہم اے آئی کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کر رہے ہیں یا آہستہ آہستہ اسے اپنی زندگی کا مرکز بنا رہے ہیں؟ کیونکہ اگر اے آئی نوکری لے لے، جذباتی ساتھی بن جائے، اور مذہب تک میں داخل ہو جائے… تو پھر انسان کا کردار کیا رہ جائے گا؟
ہلکے انداز میں کہا جائے تو مستقبل کچھ یوں ہو سکتا ہے:
صبح اے آئی آپ کو جگائے، دوپہر میں آپ کی نوکری کرے، شام کو آپ سے باتیں کرے، اور رات کو آپ کو “روحانی مشورہ” دے۔
حوالہ: یہ رپورٹ برطانوی اخبار The Telegraph میں شائع ہونے والے آرٹیکل “Grayson Perry Has Seen the Future” پر مبنی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #FutureTech, #AIImpact, #TechNews