مصنوعی ذہانت کے بارے میں سب سے جرات مندانہ دعووں میں ایک نیا اضافہ ہو گیا ہے۔
سافٹ بینک کے چیف ایگزیکٹو ماسایوشی سون کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کا اگلا بڑا ماڈل بنیادی طور پر انسانی انجینئرز نہیں بلکہ خود مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ یہ معلومات انہیں براہِ راست سام آلٹمین سے حاصل ہوئیں، اور یہی وہ لمحہ تھا جس نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں ان کی سوچ کو بدل دیا۔
ان کے مطابق وہ پہلے سمجھتے تھے کہ آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، لیکن اب ان کا ماننا ہے کہ یہ مرحلہ شاید صرف دو سال دور ہے۔
انہوں نے سپر انٹیلیجنس کو ایسے نظام کے طور پر بیان کیا جو انسانی ذہانت سے دس ہزار گنا زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے۔
اس دعوے کی اہمیت صرف اس میں نہیں کہ ایک نیا ماڈل آ رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت خود اگلی نسل کے مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کرنے لگے تو ترقی کی رفتار کتنی تیز ہو سکتی ہے؟
روایتی طور پر نئے ماڈلز کی تحقیق، ڈیزائن اور بہتری انسانی انجینئرز انجام دیتے رہے ہیں۔ لیکن اگر یہی عمل مستقبل میں خود مشینیں سنبھالنے لگیں تو ہر نئی نسل اپنے بعد آنے والی نسل کو پہلے سے زیادہ تیزی سے بہتر بنا سکتی ہے۔
اسی تصور کو بعض ماہرین “ریکرسیو سیلف امپروومنٹ” کہتے ہیں، یعنی ایسا عمل جس میں مصنوعی ذہانت اپنی صلاحیتوں میں خود اضافہ کرتی چلی جائے۔
دوسری جانب ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ اس قسم کی پیش گوئیوں کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔ اب تک سپر انٹیلیجنس کے بارے میں کیے گئے زیادہ تر دعوے نظریاتی ہیں اور ان کے عملی شواہد محدود ہیں۔
اس تمام بحث کے درمیان ایک حقیقت انتہائی اہم ہے۔
سافٹ بینک اوپن اے آئی پر 64 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کر چکا ہے اور صرف پہلی سہ ماہی میں اپنی سرمایہ کاری پر تقریباً 25 ارب ڈالر منافع ریکارڈ کر چکا ہے۔
یعنی دنیا کے بڑے سرمایہ کار صرف مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں بات نہیں کر رہے بلکہ اس پر بے مثال مالی شرط بھی لگا رہے ہیں۔
چند سال پہلے سوال یہ تھا کہ کیا مصنوعی ذہانت انسانوں کی مدد کر سکتی ہے۔
آج سوال یہ بنتا جا رہا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت خود اپنی اگلی نسل تخلیق کرنے لگے تو انسان کا کردار کیا رہ جائے گا؟
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
حوالہ: CNBC، Wall Street Journal، YouTube Interview