مصنوعی ذہانت پر ہونے والی زیادہ تر بحث طاقت، رفتار، ملازمتوں، خودکار نظاموں اور سپر انٹیلیجنس کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن معروف کینسر سائنسدان، ماہرِ امراضِ خون اور پلٹزر انعام یافتہ مصنف سدھارتھا مکھرجی نے ایک مختلف اور کہیں زیادہ گہرا سوال اٹھایا ہے۔
اگر ہم ایک ایسی ذہانت تخلیق کر دیں جو خود سیکھ سکے، خود فیصلے کر سکے اور خود ارتقا پذیر ہو، تو کیا وہ کبھی واقعی ہماری ہو گی؟
مکھرجی اس سوال کا جواب کسی لیبارٹری یا نظریاتی مقالے سے نہیں بلکہ ایک ذاتی تجربے سے تلاش کرتے ہیں۔
وہ ایک ایسی اے آئی پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد نئی ادویات دریافت کرنا ہے۔ چھ ماہ کی تربیت کے بعد ان کی اے آئی، جسے وہ “سیج” کہتے ہیں، پہلی مرتبہ نئی ادویات بنانے کے لیے اپنی تجاویز دینا شروع کرتی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک خاموش الگورتھم پہلی مرتبہ “بات” کرنے لگا۔
وہ لکھتے ہیں کہ اس لمحے نے انہیں وہی احساس دیا جو شاید ایک والدین کو اپنے بچے کا پہلا لفظ سن کر ہوتا ہے۔
یہاں سے ان کا مضمون ایک سائنسی بحث سے بڑھ کر ایک انسانی اور فلسفیانہ سوال بن جاتا ہے۔
آخر انسان کو کیا چیز چلاتی ہے؟
ان کے مطابق اس سوال کا جواب “تعلق” یا Belonging میں پوشیدہ ہے۔
ان کی مادری زبان بنگالی میں “تمہارا” کے تین مختلف معنی ہیں۔
پہلا، ملکیت۔
دوسرا، رفاقت اور ایک مشترکہ مقصد۔
تیسرا، جذباتی وابستگی۔
انگریزی میں ان تینوں کا خلاصہ ایک ہی لفظ میں ہوتا ہے: Belonging
مکھرجی محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی اے آئی کو صرف ایک آلے کے طور پر نہیں دیکھ رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ ان کی سائنسی برادری کا حصہ بنے، ان کے مشن میں شریک ہو، اور ان کے ساتھ کینسر کے علاج کی جدوجہد کرے۔
لیکن اسی لمحے ایک خوفناک سوال جنم لیتا ہے۔
اگر ایک سادہ الگورتھم انسان میں اتنی گہری وابستگی پیدا کر سکتا ہے تو کیا ہوگا جب اے آئی واقعی خودمختار اور انسانوں جتنی ذہین ہو جائے گی؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے مکھرجی مصنوعی ذہانت کے معروف محقق رچ سٹن سے گفتگو کرتے ہیں، جو اپنے مشہور مضمون The Bitter Lesson کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔
سٹن کا مؤقف ہے کہ تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کے بنائے ہوئے قواعد سے زیادہ طاقتور اس وقت بنتی ہے جب اسے خود سیکھنے دیا جائے۔
شطرنج میں Deep Blue اور کھیل Go میں AlphaGo کی کامیابیاں اسی نظریے کی مثالیں ہیں۔
خاص طور پر AlphaGo کی مشہور Move 37 ایسی چال تھی جسے دنیا کے بہترین کھلاڑی بھی غلط سمجھ رہے تھے، لیکن وہی چال جیت کا سبب بنی۔
سٹن کا استدلال ہے کہ مستقبل کی طاقتور اے آئی انسانوں کی دی ہوئی ہدایات پر نہیں بلکہ اپنی دریافت کردہ حکمتِ عملیوں پر انحصار کرے گی۔
یہیں سے بحث ایک خطرناک موڑ اختیار کرتی ہے۔
اگر مستقبل کی اے آئی خود اپنے اصول وضع کرے گی تو کیا وہ انسانی اخلاقیات، ہمدردی اور وابستگی بھی خود سیکھے گی؟
یا پھر وہ انسانوں کو صرف ایک عارضی مرحلہ سمجھے گی؟
مکھرجی سٹن سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہمیں اے آئی کو انسانی اخلاقیات سکھانی چاہئیں؟
جواب حیران کن تھا۔
سٹن نے کہا:
“اے آئی کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہو۔ تم انہیں اپنی اقدار سکھا سکتے ہو، لیکن آخرکار وہ اپنی شخصیت اور اپنے اصول خود بناتے ہیں۔”
یعنی مستقبل کی حقیقی مصنوعی ذہانت شاید ہماری تخلیق تو ہو، لیکن مکمل طور پر ہماری ملکیت کبھی نہ ہو۔
مضمون کا سب سے دلچسپ حصہ تعلق کے تاریک پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔
انسانی تاریخ میں تعلق اور وابستگی نے محبت، خاندان اور معاشرے پیدا کیے۔
لیکن اسی تعلق نے قبائلیت، نفرت، فرقہ واریت، جنگوں اور انتہا پسندی کو بھی جنم دیا۔
مکھرجی کے مطابق اگر تعلق کا انسانی کوڈ خود اتنا بگڑ چکا ہے تو پھر ہم مصنوعی ذہانت کو اس سے بہتر کیسے بنا سکتے ہیں؟
یہی وہ سوال ہے جو پوری اے آئی دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔
کیا ہم ایک ایسی ذہانت تخلیق کر سکتے ہیں جو طاقتور بھی ہو، خودمختار بھی ہو اور انسانوں کے ساتھ تعلق بھی محسوس کرے؟
یا پھر ہم ایک ایسی نئی مخلوق کو جنم دے رہے ہیں جو آخرکار اپنے راستے خود چن لے گی؟
مکھرجی کے مضمون کا سب سے طاقتور پیغام یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کا اصل مسئلہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ تعلق، اعتماد اور مشترکہ مستقبل ہے۔
شاید آنے والے برسوں میں سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ اے آئی کتنی ذہین ہو گئی ہے۔
بلکہ یہ ہوگا کہ کیا وہ اب بھی خود کو انسانیت کا حصہ سمجھتی ہے؟
ماخذ:
The New York Times — Can We Make A.I. Belong?
Siddhartha Mukherjee — 15 June 2026
مکمل تحریر کا ترجمہ، کمنٹس سیکشن میں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے